حدثنا عبيد الله بن موسى، عن عثمان بن الاسود، عن ابن ابي مليكة، عن عائشة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" من نوقش الحساب عذب"، قالت: قلت: اليس يقول الله تعالى: فسوف يحاسب حسابا يسيرا سورة الانشقاق آية 8 قال:" ذلك العرض"،
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے عثمان بن اسود نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے، ان سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کے حساب میں کھود کرید کی گئی اس کو ضرور عذاب ہو گا۔“ وہ کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں ہے «فسوف يحاسب حسابا يسيرا» ”پھر عنقریب ان سے ہلکا حساب لیا جائے گا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد صرف پیشی ہے۔