كِتَاب الرِّقَاقِ کتاب: دل کو نرم کرنے والی باتوں کے بیان میں

حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ابي إسحاق، عن عمرو بن ميمون، عن عبد الله، قال: كنا مع النبي في قبة فقال:" اترضون ان تكونوا ربع اهل الجنة؟"، قلنا: نعم، قال:" اترضون ان تكونوا ثلث اهل الجنة؟"، قلنا: نعم، قال:" اترضون ان تكونوا شطر اهل الجنة؟"، قلنا: نعم، قال:" والذي نفس محمد بيده، إني لارجو ان تكونوا نصف اهل الجنة، وذلك ان الجنة لا يدخلها إلا نفس مسلمة، وما انتم في اهل الشرك إلا كالشعرة البيضاء في جلد الثور الاسود، او كالشعرة السوداء في جلد الثور الاحمر".

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، ان سے عمرو بن میمون نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک خیمہ میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا ایک چوتھائی رہو؟ ہم نے کہا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم ایک تہائی رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو کہ اہل جنت کا تم نصف رہو؟ ہم نے کہا جی ہاں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم لوگ (امت مسلمہ) اہل جنت کا حصہ ہو گے اور ایسا اس لیے ہو گا کہ جنت میں فرمانبردار نفس کے علاوہ اور کوئی داخل نہ ہو گا اور تم لوگ شرک کرنے والوں کے درمیان (تعداد میں) اس طرح ہو گے جیسے سیاہ بیل کے جسم پر سفید بال ہوتے ہیں یا جیسے سرخ کے جسم پر ایک سیاہ بال ہو۔

صحيح البخاري # 6528
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp