حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن إسماعيل، حدثنا قيس، قال: سمعت سعدا، يقول:" إني لاول العرب رمى بسهم في سبيل الله، ورايتنا نغزو وما لنا طعام إلا ورق الحبلة وهذا السمر، وإن احدنا ليضع كما تضع الشاة ما له خلط، ثم اصبحت بنو اسد تعزرني على الإسلام خبت إذا وضل سعيي".
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے قیس نے بیان کیا، کہا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں سب سے پہلا عرب ہوں جس نے اللہ کے راستے میں تیر چلائے۔ ہم نے اس حال میں وقت گزارا ہے کہ جہاد کر رہے ہیں اور ہمارے پاس کھانے کی کوئی چیز حبلہ کے پتوں اور اس ببول کے سوا کھانے کے لیے نہیں تھی اور بکری کی مینگنیوں کی طرح ہم پاخانہ کیا کرتے تھے۔ اب یہ بنو اسد کے لوگ مجھ کو اسلام سکھلا کر درست کرنا چاہتے ہیں پھر تو میں بالکل بدنصیب ٹھہرا اور میرا سارا کیا کرایا اکارت گیا۔