حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا يحيى بن سعيد، عن سفيان، قال: حدثني ابي، عن منذر، عن ربيع بن خثيم، عن عبد الله رضي الله عنه، قال: خط النبي صلى الله عليه وسلم خطا مربعا، وخط خطا في الوسط خارجا منه، وخط خططا صغارا إلى هذا الذي في الوسط من جانبه الذي في الوسط، وقال:" هذا الإنسان، وهذا اجله محيط به، او قد احاط به، وهذا الذي هو خارج امله، وهذه الخطط الصغار الاعراض، فإن اخطاه هذا نهشه هذا، وإن اخطاه هذا نهشه هذا".
ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم کو یحییٰ قطان نے خبر دی، ان سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے منذر بن یعلیٰ نے، ان سے ربیع بن خثیم نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چوکھٹا خط کھینچا۔ پھر اس کے درمیان ایک خط کھینچا جو چوکھٹے کے درمیان میں تھا۔ اس کے بعد درمیان والے خط کے اس حصے میں جو چوکھٹے کے درمیان میں تھا چھوٹے چھوٹے بہت سے خطوط کھینچے اور پھر فرمایا کہ یہ انسان ہے اور یہ اس کی موت ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اور یہ جو (بیچ کا) خط باہر نکلا ہوا ہے وہ اس کی امید ہے اور چھوٹے چھوٹے خطوط اس کی دنیاوی مشکلات ہیں۔ پس انسان جب ایک (مشکل) سے بچ کر نکلتا ہے تو دوسری میں پھنس جاتا ہے اور دوسری سے نکلتا ہے تو تیسری میں پھنس جاتا ہے۔