حدثنا الحسن بن الربيع، حدثنا ابو الاحوص، عن عاصم، عن انس رضي الله عنه:" بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية يقال لهم: القراء، فاصيبوا فما رايت النبي صلى الله عليه وسلم وجد على شيء ما وجد عليهم، فقنت شهرا في صلاة الفجر، ويقول:" إن عصية عصوا الله ورسوله".
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا، ان سے عاصم نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم بھیجی، جس میں شریک لوگوں کو قراء (یعنی قرآن مجید کے قاری) کہا جاتا تھا۔ ان سب کو شہید کر دیا گیا۔ میں نے نہیں دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی کسی چیز کا اتنا غم ہوا ہو جتنا آپ کو ان کی شہادت کا غم ہوا تھا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے تک فجر کی نماز میں ان کے لیے بددعا کی، آپ کہتے کہ عصیہ نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔