حدثنا يحيى بن جعفر، حدثنا يزيد، عن شعبة، عن مغيرة، عن إبراهيم، عن علقمة، انه قدم الشام. ح وحدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن مغيرة، عن إبراهيم، قال: ذهب علقمة إلى الشام فاتى المسجد، فصلى ركعتين، فقال: اللهم ارزقني جليسا، فقعد إلى ابي الدرداء، فقال: ممن انت؟ قال: من اهل الكوفة، قال:" اليس فيكم صاحب السر الذي كان لا يعلمه غيره: يعني حذيفة، اليس فيكم او كان فيكم الذي اجاره الله على لسان رسوله صلى الله عليه وسلم من الشيطان: يعني عمارا، اوليس فيكم صاحب السواك والوساد: يعني ابن مسعود، كيف كان عبد الله يقرا والليل إذا يغشى سورة الليل آية 1، قال: 0 والذكر والانثى 0، فقال: ما زال هؤلاء حتى كادوا يشككوني، وقد سمعتها من رسول الله صلى الله عليه وسلم".
مجھ سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے مغیرہ بن مقسم نے، ان سے ابراہیم نخعی نے اور ان سے علقمہ بن قیس نے کہ آپ ملک شام میں پہنچے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اور مجھ سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے اور ان سے ابراہیم نے بیان کیا کہ علقمہ ملک شام گئے اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھی پھر یہ دعا کی اے اللہ! مجھے ایک ہم نشین عطا فرما۔ چنانچہ وہ ابودرداء رضی اللہ عنہ کی مجلس میں جا بیٹھے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا۔ تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ کہا کہ اہل کوفہ سے، پوچھا کیا تمہارے یہاں (نفاق اور منافقین کے) بھیدوں کے جاننے والے وہ صحابی نہیں ہیں جن کے سوا کوئی اور ان سے واقف نہیں ہے؟ ان کا اشارہ حذیفہ رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں (یا یوں کہا کہ) تمہارے وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دی تھی؟ اشارہ عمار رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ کیا تمہارے یہاں مسواک اور گدے والے نہیں ہیں؟ ان کا اشارہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سورۃ «والليل إذا يغشى» کس طرح پڑھتے تھے۔ علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ «والذكر والأنثى» پڑھتے تھے۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ یہ لوگ کوفہ والے اپنے مسلسل عمل سے قریب تھا کہ مجھے شبہ میں ڈال دیتے حالانکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خود اسے سنا تھا۔