كِتَاب الِاسْتِئْذَانِ کتاب: اجازت لینے کے بیان میں

حدثنا ابو النعمان، حدثنا معتمر، قال ابي: حدثنا ابو مجلز، عن انس رضي الله عنه، قال: لما تزوج النبي صلى الله عليه وسلم زينب، دخل القوم فطعموا، ثم جلسوا يتحدثون، فاخذ كانه يتهيا للقيام، فلم يقوموا، فلما راى ذلك قام، فلما قام قام من قام من القوم وقعد بقية القوم، وإن النبي صلى الله عليه وسلم جاء ليدخل، فإذا القوم جلوس، ثم إنهم قاموا فانطلقوا، فاخبرت النبي صلى الله عليه وسلم، فجاء حتى دخل، فذهبت ادخل فالقى الحجاب بيني وبينه، وانزل الله تعالى: يايها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي سورة الاحزاب آية 53 الآية، قال ابو عبد الله: فيه من الفقه انه لم يستاذنهم حين قام، وخرج وفيه انه تهيا للقيام وهو يريد ان يقوموا.

ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا کہ ان سے ابومجلز نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو لوگ اندر آئے اور کھانا کھایا پھر بیٹھ کے باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح اظہار کیا گویا آپ کھڑے ہونا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ کھڑے نہیں ہوئے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھا تو کھڑے ہو گئے۔ آپ کے کھڑے ہونے پر قوم کے جن لوگوں کو کھڑا ہونا تھا وہ بھی کھڑے ہو گئے لیکن بعض لوگ اب بھی بیٹھے رہے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اندر داخل ہونے کے لیے تشریف لائے تو کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے (آپ واپس ہو گئے) اور پھر جب وہ لوگ بھی کھڑے ہوئے اور چلے گئے تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر داخل ہو گئے۔ میں نے بھی اندر جانا چاہا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے اور اپنے درمیان پردہ ڈال لیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي‏» اے ایمان والو! نبی کے گھر میں نہ داخل ہو۔ آخر تک۔

صحيح البخاري # 6239
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp