كِتَاب الصَّلَاةِ کتاب: نماز کے احکام و مسائل

حدثنا إسماعيل بن خليل، حدثنا علي بن مسهر، عن الاعمش، عن مسلم يعني ابن صبيح، عن مسروق، عن عائشة، انه ذكر عندها ما يقطع الصلاة، فقالوا: يقطعها الكلب والحمار والمراة، قالت: قد جعلتمونا كلابا، لقد" رايت النبي صلى الله عليه وسلم يصلي وإني لبينه وبين القبلة وانا مضطجعة على السرير، فتكون لي الحاجة فاكره ان استقبله فانسل انسلالا"، وعن الاعمش، عن إبراهيم، عن الاسود، عن عائشة نحوه.

ہم سے اسماعیل بن خلیل نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا سلیمان اعمش کے واسطہ سے، انہوں نے مسلم بن صبیح سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ان کے سامنے ذکر ہوا کہ نماز کو کیا چیزیں توڑ دیتی ہیں، لوگوں نے کہا کہ کتا، گدھا اور عورت (بھی) نماز کو توڑ دیتی ہے۔ (جب سامنے آ جائے) عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم نے ہمیں کتوں کے برابر بنا دیا۔ حالانکہ میں جانتی ہوں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قبلہ کے درمیان (سامنے) چارپائی پر لیٹی ہوئی تھی۔ مجھے ضرورت پیش آتی تھی اور یہ بھی اچھا نہیں معلوم ہوتا تھا کہ خود کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کر دوں۔ اس لیے میں آہستہ سے نکل آتی تھی۔ اعمش نے ابراہیم سے، انہوں نے اسود سے، انہوں نے عائشہ سے اسی طرح یہ حدیث بیان کی۔

صحيح البخاري # 511
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp