كِتَاب الصَّلَاةِ کتاب: نماز کے احکام و مسائل

وان عبد الله بن عمر حدثه، ان النبي صلى الله عليه وسلم استقبل فرضتي الجبل الذي بينه وبين الجبل الطويل نحو الكعبة، فجعل المسجد الذي بني ثم يسار المسجد بطرف الاكمة، ومصلى النبي صلى الله عليه وسلم اسفل منه على الاكمة السوداء تدع من الاكمة عشرة اذرع او نحوها، ثم تصلي مستقبل الفرضتين من الجبل الذي بينك وبين الكعبة".

اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نافع سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پہاڑ کے دونوں کونوں کا رخ کیا جو اس کے اور جبل طویل کے درمیان کعبہ کی سمت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس مسجد کو جو اب وہاں تعمیر ہوئی ہے اپنی بائیں طرف کر لیتے ٹیلے کے کنارے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ اس سے نیچے سیاہ ٹیلے پر تھی ٹیلے سے تقریباً دس ہاتھ چھوڑ کر پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے جو تمہارے اور کعبہ کے درمیان ہے۔

صحيح البخاري # 492
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp