كِتَاب الصَّلَاةِ کتاب: نماز کے احکام و مسائل

حدثنا عبد الله بن محمد الجعفي، قال: حدثنا وهب بن جرير، قال: حدثنا ابي، قال: سمعت يعلى بن حكيم، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال: خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في مرضه الذي مات فيه عاصب راسه بخرقة، فقعد على المنبر فحمد الله واثنى عليه، ثم قال:" إنه ليس من الناس احد امن علي في نفسه وماله من ابي بكر بن ابي قحافة، ولو كنت متخذا من الناس خليلا لاتخذت ابا بكر خليلا، ولكن خلة الإسلام افضل سدوا عني، كل خوخة في هذا المسجد غير خوخة ابي بكر".

ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے میرے باپ جریر بن حازم نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے یعلیٰ بن حکیم سے سنا، وہ عکرمہ سے نقل کرتے تھے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں باہر تشریف لائے۔ سر پہ پٹی بندھی ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، اللہ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا، کوئی شخص بھی ایسا نہیں جس نے ابوبکر بن ابوقحافہ سے زیادہ مجھ پر اپنی جان و مال کے ذریعہ احسان کیا ہو اور اگر میں کسی کو انسانوں میں سے جانی دوست بناتا تو ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کو بناتا۔ لیکن اسلام کا تعلق افضل ہے۔ دیکھو ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کی کھڑکی چھوڑ کر اس مسجد کی تمام کھڑکیاں بند کر دی جائیں۔

صحيح البخاري # 467
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp