كِتَاب الصَّلَاةِ کتاب: نماز کے احکام و مسائل

حدثنا محمد بن سلام، قال: اخبرنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة، ان ام سلمة ذكرت لرسول الله صلى الله عليه وسلم كنيسة راتها بارض الحبشة يقال لها مارية، فذكرت له ما رات فيها من الصور، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" اولئك قوم إذا مات فيهم العبد الصالح او الرجل الصالح بنوا على قبره مسجدا وصوروا فيه تلك الصور، اولئك شرار الخلق عند الله".

ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبدہ بن سلیمان نے خبر دی، انہوں نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ عروہ بن زبیر سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک گرجا کا ذکر کیا جس کو انہوں نے حبش کے ملک میں دیکھا اس کا نام ماریہ تھا۔ اس میں جو مورتیں دیکھی تھیں وہ بیان کیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایسے لوگ تھے کہ اگر ان میں کوئی نیک بندہ (یا یہ فرمایا کہ) نیک آدمی مر جاتا تو اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہ بت رکھتے۔ یہ لوگ اللہ کے نزدیک ساری مخلوقات سے بدتر ہیں۔

صحيح البخاري # 434
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp