حدثنا محمد بن المثنى، قال: حدثنا يحيى، عن هشام، قال: اخبرني ابي، عن عائشة، ان ام حبيبة، وام سلمة ذكرتا كنيسة راينها بالحبشة فيها تصاوير، فذكرتا للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال:" إن اولئك إذا كان فيهم الرجل الصالح فمات، بنوا على قبره مسجدا وصوروا فيه تلك الصور، فاولئك شرار الخلق عند الله يوم القيامة".
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ہشام بن عروہ کے واسطہ سے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے باپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ خبر پہنچائی کہ ام حبیبہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں نے ایک کلیسا کا ذکر کیا جسے انہوں نے حبشہ میں دیکھا تو اس میں مورتیں (تصویریں) تھیں۔ انہوں نے اس کا تذکرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا یہ قاعدہ تھا کہ اگر ان میں کوئی نیکوکار (نیک) شخص مر جاتا تو وہ لوگ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہی مورتیں (تصویریں) بنا دیتے پس یہ لوگ اللہ کی درگاہ میں قیامت کے دن تمام مخلوق میں برے ہوں گے۔