كِتَاب الصَّلَاةِ کتاب: نماز کے احکام و مسائل

حدثنا مالك بن إسماعيل، قال: حدثنا زهير، قال: حدثنا حميد، عن انس، ان النبي صلى الله عليه وسلم راى نخامة في القبلة فحكها بيده، ورئي منه كراهية او رئي كراهيته لذلك، وشدته عليه، وقال:" إن احدكم إذا قام في صلاته فإنما يناجي ربه او ربه بينه وبين قبلته، فلا يبزقن في قبلته، ولكن عن يساره او تحت قدمه، ثم اخذ طرف ردائه فبزق فيه ورد بعضه على بعض، قال: او يفعل هكذا".

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہیر بن معاویہ نے، کہا ہم سے حمید نے انس بن مالک سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ کی طرف (دیوار پر) بلغم دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اسے کھرچ ڈالا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناخوشی کو محسوس کیا گیا یا (راوی نے اس طرح بیان کیا کہ) اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شدید ناگواری کو محسوس کیا گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے رب سے سرگوشی کرتا ہے، یا یہ کہ اس کا رب اس کے اور قبلہ کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لیے قبلہ کی طرف نہ تھوکا کرو، البتہ بائیں طرف یا قدم کے نیچے تھوک لیا کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر کا ایک کونا (کنارہ) لیا، اس میں تھوکا اور چادر کی ایک تہہ کو دوسری تہہ پر پھیر لیا اور فرمایا، یا اس طرح کر لیا کرے۔

صحيح البخاري # 417
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp