كِتَاب الصَّلَاةِ کتاب: نماز کے احکام و مسائل

حدثنا عبد الله بن يوسف، قال: اخبرنا مالك بن انس، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر، قال: بينا الناس بقباء في صلاة الصبح إذ جاءهم آت، فقال:" إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد انزل عليه الليلة قرآن وقد امر ان يستقبل الكعبة فاستقبلوها"، وكانت وجوههم إلى الشام، فاستداروا إلى الكعبة.

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں امام مالک نے عبداللہ بن دینار کے واسطہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر سے، آپ نے فرمایا کہ لوگ قباء میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اتنے میں ایک آنے والا آیا۔ اس نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کل وحی نازل ہوئی ہے اور انہیں کعبہ کی طرف (نماز میں) منہ کرنے کا حکم ہو گیا ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے بھی کعبہ کی جانب منہ کر لیے جب کہ اس وقت وہ شام کی جانب منہ کئے ہوئے تھے، اس لیے وہ سب کعبہ کی جانب گھوم گئے۔

صحيح البخاري # 403
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp