كِتَاب الصَّلَاةِ کتاب: نماز کے احکام و مسائل

حدثنا الحميدي، قال: حدثنا سفيان، قال: حدثنا عمرو بن دينار، قال: سالنا ابن عمر، عن رجل طاف بالبيت العمرة ولم يطف بين الصفا والمروة، اياتي امراته؟ فقال:" قدم النبي صلى الله عليه وسلم، فطاف بالبيت سبعا، وصلى خلف المقام ركعتين، وطاف بين الصفا والمروة، وقد كان لكم في رسول الله اسوة حسنة".

ہم سے حمیدی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، کہا ہم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جس نے بیت اللہ کا طواف عمرہ کے لیے کیا لیکن صفا اور مروہ کی سعی نہیں کی، کیا ایسا شخص (بیت اللہ کے طواف کے بعد) اپنی بیوی سے صحبت کر سکتا ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے سات مرتبہ بیت اللہ کا طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی، پھر صفا اور مردہ کی سعی کی اور تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ (الاحزاب: 21)

صحيح البخاري # 395
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp