كِتَاب الصَّلَاةِ کتاب: نماز کے احکام و مسائل

حدثنا علي بن عبد الله، قال: حدثنا سفيان، قال: حدثنا الزهري، عن عطاء بن يزيد، عن ابي ايوب الانصاري، ان النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" إذا اتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة ولا تستدبروها، ولكن شرقوا او غربوا"، قال ابو ايوب: فقدمنا الشام، فوجدنا مراحيض بنيت قبل القبلة، فننحرف ونستغفر الله تعالى، وعن الزهري، عن عطاء، قال: سمعت ابا ايوب، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله.

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے، کہا ہم سے زہری نے عطاء بن یزید لیثی کے واسطہ سے، انہوں نے ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ تو اس وقت نہ قبلہ کی طرف منہ کرو اور نہ پیٹھ کرو۔ بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف اس وقت اپنا منہ کر لیا کرو۔ ابوایوب نے فرمایا کہ ہم جب شام میں آئے تو یہاں کے بیت الخلاء قبلہ رخ بنے ہوئے تھے (جب ہم قضائے حاجت کے لیے جاتے) تو ہم مڑ جاتے اور اللہ عزوجل سے استغفار کرتے تھے اور زہری نے عطاء سے اس حدیث کو اسی طرح روایت کیا۔ اس میں یوں ہے کہ عطاء نے کہا میں نے ابوایوب سے سنا، انہوں نے اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔

صحيح البخاري # 394
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp