قال ابن ابي مريم: اخبرنا يحيى بن ايوب، حدثنا حميد، حدثنا انس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، وقال علي بن عبد الله: حدثنا خالد بن الحارث، قال: حدثنا حميد، قال: سال ميمون بن سياه انس بن مالك، قال: يا ابا حمزة، ما يحرم دم العبد وماله؟ فقال: من شهد ان لا إله إلا الله، واستقبل قبلتنا، وصلى صلاتنا، واكل ذبيحتنا، فهو المسلم له ما للمسلم وعليه ما على المسلم.
ابن ابی مریم نے کہا، ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے حمید نے حدیث بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کر کے حدیث بیان کی۔ علی بن عبداللہ بن مدینی نے فرمایا کہ ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے حمید طویل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میمون بن سیاہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ اے ابوحمزہ! آدمی کی جان اور مال پر زیادتی کو کیا چیزیں حرام کرتی ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا کہ جس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہمارے قبلہ کی طرف منہ کیا اور ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہمارے ذبیحہ کو کھایا تو وہ مسلمان ہے۔ پھر اس کے وہی حقوق ہیں جو عام مسلمانوں کے ہیں اور اس کی وہی ذمہ داریاں ہیں جو عام مسلمانوں پر ہیں۔