كِتَاب الصَّلَاةِ کتاب: نماز کے احکام و مسائل

حدثنا عاصم بن علي، قال: حدثنا ابن ابي ذئب، عن الزهري، عن سالم، عن ابن عمر، قال: سال رجل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: ما يلبس المحرم؟ فقال:" لا يلبس القميص، ولا السراويل، ولا البرنس، ولا ثوبا مسه الزعفران، ولا ورس، فمن لم يجد النعلين فليلبس الخفين وليقطعهما حتى يكونا اسفل من الكعبين" وعن نافع، عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله.

ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے زہری کے حوالہ سے بیان کیا، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے پوچھا کہ احرام باندھنے والے کو کیا پہننا چاہیے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ قمیص پہنے نہ پاجامہ، نہ باران کوٹ اور نہ ایسا کپڑا جس میں زعفران لگا ہوا ہو اور نہ ورس لگا ہوا کپڑا، پھر اگر کسی شخص کو جوتیاں نہ ملیں (جن میں پاؤں کھلا رہتا ہو) وہ موزے کاٹ کر پہن لے تاکہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہو جائیں اور ابن ابی ذئب نے اس حدیث کو نافع سے بھی روایت کیا، انہوں نے ایسا ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی روایت کیا ہے۔

صحيح البخاري # 366
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp