حدثنا عبد الله بن يوسف، قال: اخبرنا مالك، عن صالح بن كيسان، عن عروة بن الزبير، عن عائشة ام المؤمنين، قالت:"فرض الله الصلاة حين فرضها ركعتين ركعتين في الحضر والسفر، فاقرت صلاة السفر، وزيد في صلاة الحضر".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں خبر دی امام مالک نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے نماز میں دو دو رکعت فرض کی تھی۔ سفر میں بھی اور اقامت کی حالت میں بھی۔ پھر سفر کی نماز تو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھی گئی اور حالت اقامت کی نمازوں میں زیادتی کر دی گئی۔