كِتَاب الْأَدَبِ کتاب: اخلاق کے بیان میں

حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، قال: سمعت ابا سلمة بن عبد الرحمن يقول: اخبرني جابر بن عبد الله، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:" ثم فتر عني الوحي فبينا انا امشي سمعت صوتا من السماء، فرفعت بصري إلى السماء، فإذا الملك الذي جاءني بحراء قاعد على كرسي بين السماء والارض".

ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ مجھے جابر بن عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میرے پاس وحی آنے کا سلسلہ بند ہو گیا۔ ایک دن میں چل رہا تھا کہ میں نے آسمان کی طرف سے ایک آواز سنی، میں نے آسمان کی طرف نظر اٹھائی تو میں نے پھر اس فرشتہ کو دیکھا جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا، وہ آسمان و زمین کے درمیان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔

صحيح البخاري # 6214
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp