حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا ابو عوانة، حدثنا عبد الملك، عن عبد الله بن الحارث بن نوفل، عن عباس بن عبد المطلب، قال: يا رسول الله، هل نفعت ابا طالب بشيء؟ فإنه كان يحوطك ويغضب لك، قال:" نعم، هو في ضحضاح من نار، لولا انا لكان في الدرك الاسفل من النار".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن حارث بن نوفل نے اور ان سے عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے کہ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ نے جناب ابوطالب کو ان کی وفات کے بعد کوئی فائدہ پہنچایا، وہ آپ کی حفاظت کیا کرتے تھے اور آپ کے لیے لوگوں پر غصہ ہوا کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں وہ دوزخ میں اس جگہ پر ہیں جہاں ٹخنوں تک آگ ہے اگر میں نہ ہوتا تو وہ دوزخ کے نیچے کے طبقے میں رہتے۔