كِتَاب الْأَدَبِ کتاب: اخلاق کے بیان میں

حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن عبيد الله، حدثني نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" اخبروني بشجرة مثلها مثل المسلم تؤتي اكلها كل حين بإذن ربها ولا تحت ورقها، فوقع في نفسي انها النخلة فكرهت ان اتكلم، وثم ابو بكر وعمر فلما لم يتكلما، قال النبي صلى الله عليه وسلم:" هي النخلة" فلما خرجت مع ابي قلت: يا ابتاه وقع في نفسي انها النخلة، قال: ما منعك ان تقولها؟ لو كنت قلتها كان احب إلي من كذا وكذا، قال: ما منعني إلا اني لم ارك ولا ابا بكر تكلمتما فكرهت.

ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن کثیر نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اس درخت کا نام بتاؤ، جس کی مثال مسلمان کی سی ہے۔ وہ ہمیشہ اپنے رب کے حکم سے پھل دیتا ہے اور اس کے پتے نہیں جھڑا کرتے۔ میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں نے کہنا پسند نہیں کیا۔ کیونکہ مجلس میں حضرات ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما جیسے اکابر بھی موجود تھے۔ پھر جب ان دونوں بزرگوں نے کچھ نہیں کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کھجور کا درخت ہے۔ جب میں اپنے والد کے ساتھ نکلا تو میں نے عرض کیا کہ میرے دل میں آیا کہ کہہ دوں یہ کھجور کا درخت ہے، انہوں نے کہا پھر تم نے کہا کیوں نہیں؟ اگر تم نے کہہ دیا ہوتا میرے لیے اتنا مال اور اسباب ملنے سے بھی زیادہ خوشی ہوتی۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ (میں نے عرض کیا) صرف اس وجہ سے میں نے نہیں کہا کہ جب میں نے آپ کو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسے بزرگ کو خاموش دیکھا تو میں نے آپ بزرگوں کے سامنے بات کرنا برا جانا۔

صحيح البخاري # 6144
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp