كِتَاب الْأَدَبِ کتاب: اخلاق کے بیان میں

حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا سفيان، عن عمرو، عن ابي العباس، عن ابن عمر، قال: لما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم بالطائف قال:" إنا قافلون غدا إن شاء الله"، فقال ناس من اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا نبرح او نفتحها، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" فاغدوا على القتال" قال: فغدوا فقاتلوهم قتالا شديدا وكثر فيهم الجراحات، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إنا قافلون غدا إن شاء الله" قال: فسكتوا فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال الحميدي، حدثنا سفيان بالخبر كله.

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابو العباس سائب نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طائف میں تھے (فتح مکہ کے بعد) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ہم یہاں سے کل واپس ہوں گے۔ آپ کے بعض صحابہ نے کہا کہ ہم اس وقت تک نہیں جائیں گے جب تک اسے فتح نہ کر لیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہی بات ہے تو کل صبح لڑائی کرو۔ بیان کیا کہ دوسرے دن صبح کو صحابہ نے گھمسان کی لڑائی لڑی اور بکثرت صحابہ زخمی ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان شاءاللہ ہم کل واپس ہوں گے۔ بیان کیا کہ اب سب لوگ خاموش رہے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ حمیدی نے بیان کیا کہ ہم سے سفیان نے پوری سند «خبر‏.» کے لفظ کے ساتھ بیان کی۔

صحيح البخاري # 6086
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp