كِتَاب الْأَدَبِ کتاب: اخلاق کے بیان میں

حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا هشام بن عروة، عن ابيه، عن عائشة رضي الله عنها، قالت: مكث النبي صلى الله عليه وسلم كذا وكذا يخيل إليه انه ياتي اهله ولا ياتي، قالت عائشة: فقال لي ذات يوم:" يا عائشة إن الله افتاني في امر استفتيته فيه، اتاني رجلان فجلس احدهما عند رجلي والآخر عند راسي، فقال الذي عند رجلي للذي عند راسي، ما بال الرجل قال: مطبوب، يعني مسحورا قال: ومن طبه؟ قال: لبيد بن اعصم قال: وفيم؟ قال: في جف طلعة ذكر في مشط ومشاقة تحت رعوفة في بئر ذروان"، فجاء النبي صلى الله عليه وسلم، فقال:" هذه البئر التي اريتها كان رءوس نخلها رءوس الشياطين وكان ماءها نقاعة الحناء"، فامر به النبي صلى الله عليه وسلم فاخرج، قالت عائشة: فقلت: يا رسول الله، فهلا تعني تنشرت، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" اما الله فقد شفاني، واما انا فاكره ان اثير على الناس شرا" قالت: ولبيد بن اعصم رجل من بني زريق حليف ليهود.

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے اتنے دنوں تک اس حال میں رہے کہ آپ کو خیال ہوتا تھا کہ جیسے آپ اپنی بیوی کے پاس جا رہے ہیں حالانکہ ایسا نہیں تھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک دن فرمایا، عائشہ! میں نے اللہ تعالیٰ سے ایک معاملہ میں سوال کیا تھا اور اس نے وہ بات مجھے بتلا دی، دو فرشتے میرے پاس آئے، ایک میرے پاؤں کے پاس بیٹھ گیا اور دوسرا سر کے پاس بیٹھ گیا۔ اس نے اس سے کہا کہ جو میرے سر کے پاس تھا ان صاحب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) کا کیا حال ہے؟ دوسرے نے جواب دیا کہ ان پر جادو کر دیا گیا ہے۔ پوچھا، کس نے ان پر جادو کیا ہے؟ جواب دیا کہ لبید بن اعصم نے، پوچھا، کس چیز میں کیا ہے، جواب دیا کہ نر کھجور کے خوشہ کے غلاف میں، اس کے اندر کنگھی ہے اور کتان کے تار ہیں۔ اور یہ ذروان کے کنویں میں ایک چٹان کے نیچے دبا دیا ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور فرمایا کہ یہی وہ کنواں ہے جو مجھے خواب میں دکھلایا گیا تھا۔ اس کے باغ کے درختوں کے پتے سانپوں کے پھن جیسے ڈراؤنے معلوم ہوتے ہیں اور اس کا پانی مہندی کے نچوڑے ہوئے پانی کی طرح سرخ تھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے وہ جادو نکالا گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر کیوں نہیں، ان کی مراد یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کو شہرت کیوں نہ دی۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے اللہ نے شفاء دے دی ہے اور میں ان لوگوں میں خواہ مخواہ برائی کے پھیلانے کو پسند نہیں کرتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ لبید بن اعصم یہود کے حلیف بنی زریق سے تعلق رکھتا تھا۔

صحيح البخاري # 6063
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp