كِتَاب الْأَدَبِ کتاب: اخلاق کے بیان میں

حدثنا صدقة بن الفضل، اخبرنا ابن عيينة، سمعت ابن المنكدر، سمع عروة بن الزبير، ان عائشة رضي الله عنها، اخبرته، قالت: استاذن رجل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال:" ائذنوا له بئس اخو العشيرة او ابن العشيرة"، فلما دخل الان له الكلام، قلت: يا رسول الله، قلت الذي قلت، ثم النت له الكلام، قال:" اي عائشة، إن شر الناس من تركه الناس او ودعه الناس اتقاء فحشه".

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی، انہوں نے محمد بن منکدر سے سنا، انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا اور انہیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی، انہوں نے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اجازت دے دو، فلاں قبیلہ کا یہ برا آدمی ہے جب وہ شخص اندر آیا تو آپ نے اس کے ساتھ بڑی نرمی سے گفتگو کی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کو اس کے متعلق جو کچھ کہنا تھا وہ ارشاد فرمایا اور پھر اس کے ساتھ نرم گفتگو کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، عائشہ! وہ بدترین آدمی ہے جسے اس کی بدکلامی کے ڈر سے لوگ (اسے) چھوڑ دیں۔

صحيح البخاري # 6054
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp