حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، قال: كان حذيفة بالمداين فاستسقى، فاتاه دهقان بماء في إناء من فضة فرماه به، وقال: إني لم ارمه إلا اني نهيته فلم ينته، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" الذهب والفضة والحرير والديباج هي لهم في الدنيا ولكم في الآخرة".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے، ان سے ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ حذیفہ رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے۔ انہوں نے پانی مانگا۔ ایک دیہاتی چاندی کے برتن میں پانی لایا۔ انہوں نے اسے پھینک دیا اور کہا کہ میں نے صرف اسے اس لیے پھینکا ہے کہ میں اس شخص کو منع کر چکا ہوں (کہ چاندی کے برتن میں مجھے کھانا اور پانی نہ دیا کرو) لیکن وہ نہیں مانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ سونا، چاندی، ریشم اور دیبا ان (کفار) کے لیے دنیا میں ہے اور تمہارے (مسلمانوں) کے لیے آخرت میں۔