وزاد الليث، قال: حدثني يونس، عن ابن شهاب، قال: وسالته هل نتوضا او نشرب البان الاتن، او مرارة السبع، او ابوال الإبل؟، قال: قد كان المسلمون يتداوون بها فلا يرون بذلك باسا، فاما البان الاتن، فقد بلغنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن لحومها ولم يبلغنا عن البانها، امر ولا نهي، واما مرارة السبع، قال ابن شهاب: اخبرني ابو إدريس الخولاني، ان ابا ثعلبة الخشني، اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن اكل كل ذي ناب من السبع.
اور لیث نے زیادہ کیا ہے کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے کہ میں نے ابوادریس سے پوچھا کیا ہم (دوا کے طور پر) گدھی کے دودھ سے وضو کر سکتے ہیں یا اسے پی سکتے ہیں یا درندہ جانوروں کے پتِے استعمال کر سکتے ہیں یا اونٹ کا پیشاب پی سکتے ہیں۔ ابوادریس نے کہا کہ مسلمان اونٹ کے پیشاب کو دوا کے طور پر استعمال کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ البتہ گدھی کے دودھ کے بارے میں ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے گوشت سے منع فرمایا تھا۔ اس کے دودھ کے متعلق ہمیں کوئی حکم یا ممانعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم نہیں ہے۔ البتہ درندوں کے پتِے کے متعلق جو ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے ابوادریس خولانی نے خبر دی اور انہیں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر دانت والے شکاری درندے کا گوشت کھانے سے منع فرمایا ہے۔