كِتَاب الطِّبِّ کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں

وعن ابن شهاب، عن سعيد بن المسيب:" ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قضى في الجنين، يقتل في بطن امه بغرة عبد او وليدة، فقال الذي قضي عليه: كيف اغرم ما لا اكل، ولا شرب، ولا نطق، ولا استهل، ومثل ذلك يطل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما هذا من إخوان الكهان".

اور ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنین جسے اس کی ماں کے پیٹ میں مار ڈالا گیا ہو، کی دیت کے طور پر ایک غلام یا ایک باندی دیئے جانے کا فیصلہ کیا تھا جسے دیت دینی تھی اس نے کہا کہ ایسے بچہ کی دیت آخر کیوں دوں جس نے نہ کھایا، نہ پیا، نہ بولا اور نہ ولادت کے وقت ہی آواز نکالی؟ ایسی صورت میں تو دیت نہیں ہو سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص تو کاہنوں کا بھائی معلوم ہوتا ہے۔

صحيح البخاري # 5760
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp