كتاب المرضى کتاب: امراض اور ان کے علاج کے بیان میں

حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن الاعمش، عن إبراهيم التيمي، عن الحارث بن سويد، عن عبد الله رضي الله عنه، اتيت النبي صلى الله عليه وسلم في مرضه، وهو يوعك وعكا شديدا، وقلت: إنك لتوعك وعكا شديدا، قلت: إن ذاك بان لك اجرين، قال:" اجل ما من مسلم يصيبه اذى، إلا حات الله عنه خطاياه، كما تحات ورق الشجر".

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کے مرض کے زمانہ میں حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بڑے تیز بخار میں تھے۔ میں نے عرض کیا: (یا رسول اللہ!) آپ کو بڑا تیز بخار ہے۔ میں نے یہ بھی کہا کہ یہ بخار آپ کو اس لیے اتنا تیز ہے کہ آپ کا ثواب بھی دوگنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں جو مسلمان کسی بھی تکلیف میں گرفتار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے گناہ اس طرح جھاڑ دیتا ہے جیسے درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔

صحيح البخاري # 5647
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp