كتاب الأضاحي کتاب: قربانی کے مسائل کا بیان

حدثنا حبان بن موسى، اخبرنا عبد الله، قال: اخبرني يونس، عن الزهري، قال: حدثني ابو عبيد مولى ابن ازهر، انه شهد العيد يوم الاضحى مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه فصلى قبل الخطبة، ثم خطب الناس، فقال:" يا ايها الناس، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد نهاكم عن صيام هذين العيدين، اما احدهما فيوم فطركم من صيامكم، واما الآخر فيوم تاكلون من نسككم".

ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن ازہر کے غلام ابو عبید نے بیان کیا کہ وہ بقر عید کے دن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدگاہ میں موجود تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور خطبہ میں فرمایا اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ان دو عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے جس دن تم (رمضان کے) روزے پورے کر کے افطار کرتے ہو (عیدالفطر) اور دوسرا تمہاری قربانی کا دن ہے۔

صحيح البخاري # 5571
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp