حدثنا المكي بن إبراهيم، قال: حدثني يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع، قال: لما امسوا يوم فتحوا خيبر اوقدوا النيران، قال النبي صلى الله عليه وسلم:" علام اوقدتم هذه النيران؟" قالوا: لحوم الحمر الإنسية، قال:" اهريقوا ما فيها واكسروا قدورها"، فقام رجل من القوم، فقال: نهريق ما فيها ونغسلها؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" او ذاك".
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی عبیدہ نے بیان کیا، ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ فتح خیبر کی شام کو لوگوں نے آگ روشن کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ یہ آگ تم لوگوں نے کس لیے روشن کی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ گدھے کا گوشت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہانڈیوں میں کچھ (گدھے کا گوشت) ہے اسے پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ ڈالو۔ ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا ہانڈی میں جو کچھ (گوشت وغیرہ) ہے اسے ہم پھینک دیں اور برتن دھو لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ بھی کر سکتے ہو۔