حدثنا عبد الرحمن بن شيبة، قال: اخبرني ابن ابي الفديك، عن ابن ابي ذئب، عن المقبري، عن ابي هريرة، قال:" كنت الزم النبي صلى الله عليه وسلم لشبع بطني حين لا آكل الخمير ولا البس الحرير ولا يخدمني فلان ولا فلانة والصق بطني بالحصباء واستقرئ الرجل الآية وهي معي كي ينقلب بي فيطعمني، وخير الناس للمساكين جعفر بن ابي طالب ينقلب بنا فيطعمنا ما كان في بيته حتى إن كان ليخرج إلينا العكة ليس فيها شيء فنشتقها فنلعق ما فيها".
ہم سے عبدالرحمٰن بن شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے ابن ابی الفدیک نے خبر دی، انہیں ابن ابی ذئب نے، انہیں مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہا کرتا تھا۔ اس وقت میں روٹی نہیں کھاتا تھا۔ نہ ریشم پہنتا تھا، نہ فلاں اور فلانی میری خدمت کرتے تھے (بھوک کی شدت کی وجہ سے بعض اوقات) میں اپنے پیٹ پر کنکریاں لگا لیتا اور کبھی میں کسی سے کوئی آیت پڑھنے کے لیے کہتا حالانکہ وہ مجھے یاد ہوتی۔ مقصد صرف یہ ہوتا کہ وہ مجھے اپنے ساتھ لے جائے اور کھانا کھلا دے اور مسکینوں کے لیے سب سے بہترین شخص جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، ہمیں اپنے گھر ساتھ لے جاتے اور جو کچھ بھی گھر میں ہوتا کھلا دیتے تھے۔ کبھی تو ایسا ہوتا کہ گھی کا ڈبہ نکال کر لاتے اور اس میں کچھ نہ ہوتا۔ ہم اسے پھاڑ کر اس میں جو کچھ لگا ہوتا چاٹ لیتے تھے۔