حدثنا ابن ابي مريم، اخبرنا محمد بن جعفر، اخبرني حميد، انه سمع انسا، يقول:" قام النبي صلى الله عليه وسلم يبني بصفية، فدعوت المسلمين إلى وليمته امر بالانطاع فبسطت، فالقي عليها التمر والاقط والسمن"، وقال عمرو: عن انس،" بنى بها النبي صلى الله عليه وسلم ثم صنع حيسا في نطع".
ہم سے سعید بن مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا مجھ کو حمید نے خبر دی اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کے بعد ان کے ساتھ راستے میں قیام کیا اور میں نے مسلمانوں کو آپ کے ولیمہ کی دعوت میں بلایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھایا گیا، پھر آپ نے اس پر کھجور، پنیر اور گھی ڈال دیا اور عمرو بن ابی عمرو نے کہا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفیہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ صحبت کی، پھر ایک چمڑے کے دستر خوان پر (کھجور، گھی، پنیر ملا کر بنا ہوا) حلوہ رکھا۔