حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا يزيد بن زريع، عن سليمان التيمي، عن ابي عثمان، عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:" لا يمنعن احدا منكم نداء بلال"، او قال:" اذانه من سحوره، فإنما ينادي"، او قال:" يؤذن ليرجع قائمكم" وليس ان يقول كانه يعني الصبح او الفجر، واظهر يزيد يديه، ثم مد إحداهما من الاخرى.
ہم سے عبداللہ بن سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سلیمان تیمی نے، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کسی کو (سحری کھانے سے) بلال کی پکار نہ روکے یا آپ نے فرمایا کہ ”ان کی اذان“ کیونکہ وہ پکارتے ہیں، یا فرمایا، اذان دیتے ہیں تاکہ اس وقت نماز پڑھنے والا رک جائے۔ اس کا اعلان سے یہ مقصود نہیں ہوتا کہ صبح صادق ہو گئی۔ اس وقت یزید بن زریع نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کئے (صبح کاذب کی صورت بتانے کے لیے) پھر ایک ہاتھ کو دوسرے پر پھیلایا (صبح صادق کی صورت کے اظہار کے لیے)۔