كِتَاب الطَّلَاقِ کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان

وقال الاويسي: حدثنا إبراهيم بن سعد، عن شعبة بن الحجاج، عن هشام بن زيد، عن انس بن مالك، قال:" عدا يهودي في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم على جارية، فاخذ اوضاحا كانت عليها، ورضخ راسها، فاتى بها اهلها رسول الله صلى الله عليه وسلم وهي في آخر رمق وقد اصمتت، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قتلك؟ فلان لغير الذي قتلها، فاشارت براسها ان لا، قال: فقال لرجل آخر غير الذي قتلها، فاشارت ان لا، فقال: ففلان لقاتلها، فاشارت ان نعم، فامر به رسول الله صلى الله عليه وسلم، فرضخ راسه بين حجرين".

اور اویسی نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے شعبہ بن حجاج نے، ان سے ہشام بن یزید نے، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک یہودی نے ایک لڑکی پر ظلم کیا، اس کے چاندی کے زیورات جو وہ پہنے ہوئے تھی چھین لیے اور اس کا سر کچل دیا۔ لڑکی کے گھر والے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لائے تو اس کی زندگی کی بس آخری گھڑی باقی تھی اور وہ بول نہیں سکتی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کس نے مارا ہے؟ فلاں نے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ سے غیر متعلق آدمی کا نام لیا۔ اس لیے اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دوسرے شخص کا نام لیا اور وہ بھی اس واقعہ سے غیر متعلق تھا تو لڑکی نے سر کے اشارہ سے کہا کہ نہیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ فلاں نے تمہیں مارا ہے؟ تو اس لڑکی نے سر کے اشارہ سے ہاں کہا۔

صحيح البخاري # 5295
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp