كِتَاب الطَّلَاقِ کتاب: طلاق کے مسائل کا بیان

وعن ايوب بن ابي تميمة، عن عكرمة، عن ابن عباس، انه قال:" جاءت امراة ثابت بن قيس إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقالت: يا رسول الله، إني لا اعتب على ثابت في دين ولا خلق ولكني لا اطيقه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فتردين عليه حديقته؟ قالت: نعم".

اور ابن ابی تمیمہ سے روایت ہے، ان سے عکرمہ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے، انہوں نے بیان کیا کہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ثابت کے دین اور ان کے اخلاق کی وجہ سے کوئی شکایت نہیں ہے لیکن میں ان کے ساتھ گزارہ نہیں کر سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ پھر کیا تم ان کا باغ واپس کر سکتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں۔

صحيح البخاري # 5275
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp