حدثنا ابو نعيم، حدثنا عبد الرحمن بن غسيل، عن حمزة بن ابي اسيد، عن ابي اسيد رضي الله عنه، قال:" خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم حتى انطلقنا إلى حائط يقال له: الشوط، حتى انتهينا إلى حائطين فجلسنا بينهما، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: اجلسوا ها هنا، ودخل وقد اتي بالجونية، فانزلت في بيت في نخل في بيت اميمة بنت النعمان بن شراحيل ومعها دايتها حاضنة لها، فلما دخل عليها النبي صلى الله عليه وسلم، قال: هبي نفسك لي، قالت: وهل تهب الملكة نفسها للسوقة؟ قال: فاهوى بيده يضع يده عليها لتسكن، فقالت: اعوذ بالله منك، فقال: قد عذت بمعاذ، ثم خرج علينا، فقال: يا ابا اسيد، اكسها رازقيتين والحقها باهلها".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن غسیل نے بیان کیا، ان سے حمزہ بن ابی اسید نے اور ان سے ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر نکلے اور ایک باغ میں پہنچے جس کا نام ”شوط“ تھا۔ جب وہاں جا کر اور باغوں کے درمیان پہنچے تو بیٹھ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ یہیں بیٹھو، پھر باغ میں گئے، جونیہ لائی جا چکی تھیں اور انہیں کھجور کے ایک گھر میں اتارا۔ اس کا نام امیمہ بنت نعمان بن شراحیل تھا۔ ان کے ساتھ ایک دایہ بھی ان کی دیکھ بھال کے لیے تھی۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے تو فرمایا کہ اپنے آپ کو میرے حوالے کر دے۔ اس نے کہا کیا کوئی شہزادی کسی عام آدمی کے لیے اپنے آپ کو حوالہ کر سکتی ہے؟ بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا شفقت کا ہاتھ ان کی طرف بڑھا کر اس کے سر پر رکھا تو اس نے کہا کہ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اسی سے پناہ مانگی جس سے پناہ مانگی جاتی ہے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ ابواسید! اسے دو رازقیہ کپڑے پہنا کر اسے اس کے گھر پہنچا آؤ۔