كِتَاب النِّكَاحِ کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان

حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن زينب بنت ام سلمة، عن ام سلمة،" ان النبي صلى الله عليه وسلم كان عندها وفي البيت مخنث، فقال المخنث لاخي ام سلمة عبد الله بن ابي امية: إن فتح الله لكم الطائف غدا ادلك على بنت غيلان فإنها تقبل باربع وتدبر بثمان، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا يدخلن هذا عليكن".

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے، ان سے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اور ان سے ام المؤمنین ام سلمہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے یہاں تشریف رکھتے تھے، گھر میں ایک مغیث نامی مخنث بھی تھا۔ اس مخنث (ہیجڑے) نے ام سلمہ کے بھائی عبداللہ بن ابی امیہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر کل اللہ نے تمہیں طائف پر فتح عنایت فرمائی تو میں تمہیں غیلان کی بیٹی کو دکھلاؤں گا کیونکہ وہ سامنے آتی ہے تو (مٹاپے کی وجہ سے) اس کے چار شکنیں پڑ جاتی ہیں اور جب پیچھے پھرتی ہے تو آٹھ ہو جاتی ہیں۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ام سلمہ سے) فرمایا کہ یہ (مخنث) تمہارے پاس اب نہ آیا کرے۔

صحيح البخاري # 5235
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp