كِتَاب النِّكَاحِ کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان

حدثنا مكي بن إبراهيم، حدثنا ابن جريج، قال: سمعت نافعا يحدث ان ابن عمر رضي الله عنهما، كان يقول:" نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان يبيع بعضكم على بيع بعض، ولا يخطب الرجل على خطبة اخيه حتى يترك الخاطب قبله، او ياذن له الخاطب".

ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریج نے بیان کیا، کہا کہ میں نے نافع سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ہم کسی کے بھاؤ پر بھاؤ لگائیں اور کسی شخص کو اپنے کسی (دینی) بھائی کے پیغام نکاح پر پیغام بھیجیں یہاں تک کہ پیغام بھیجنے والا اپنا ارادہ بدل دے یا اسے پیغام نکاح بھیجنے کی اجازت دے دے تو جائز ہے۔

صحيح البخاري # 5142
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp