كِتَاب النِّكَاحِ کتاب: نکاح کے مسائل کا بیان

وقال اصبغ: اخبرني ابن وهب، عن يونس بن يزيد، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضي الله عنه، قال: قلت: يا رسول الله، إني رجل شاب، وانا اخاف على نفسي العنت، ولا اجد ما اتزوج به النساء، فسكت عني، ثم قلت: مثل ذلك فسكت عني، ثم قلت: مثل ذلك فسكت عني، ثم قلت: مثل ذلك، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" يا ابا هريرة جف القلم بما انت لاق فاختص على ذلك او ذر".

اور اصبغ نے کہا کہ مجھے ابن وہب نے خبر دی، انہیں یونس بن یزید نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نوجوان ہوں اور مجھے اپنے پر زنا کا خوف رہتا ہے۔ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر میں کسی عورت سے شادی کر لوں۔ آپ میری یہ بات سن کر خاموش رہے۔ دوبارہ میں نے اپنی یہی بات دہرائی لیکن آپ اس مرتبہ بھی خاموش رہے۔ سہ بارہ میں نے عرض کیا آپ پھر بھی خاموش رہے۔ میں نے چوتھی مرتبہ عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوہریرہ! جو کچھ تم کرو گے اسے (لوح محفوظ میں) لکھ کر قلم خشک ہو چکا ہے۔ خواہ اب تم خصی ہو جاؤ یا باز رہو۔ یعنی خصی ہونا بیکار محض ہے۔

صحيح البخاري # 5076
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp