حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن شعبة، عن قتادة، عن انس بن مالك، عن ابي موسى، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:" المؤمن الذي يقرا القرآن ويعمل به كالاترجة، طعمها طيب وريحها طيب، والمؤمن الذي لا يقرا القرآن ويعمل به كالتمرة، طعمها طيب ولا ريح لها، ومثل المنافق الذي يقرا القرآن كالريحانة، ريحها طيب وطعمها مر، ومثل المنافق الذي لا يقرا القرآن كالحنظلة، طعمها مر او خبيث وريحها مر".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے انس بن مالک نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس مومن کی مثال جو قرآن مجید پڑھتا ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے میٹھے لیموں کی سی ہے جس کا مزا بھی لذت دار اور خوشبو بھی اچھی اور وہ مومن جو قرآن پڑھتا تو نہیں لیکن اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال کھجور کی ہے جس کا مزہ تو عمدہ ہے لیکن خوشبو کے بغیر اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے ریحان کی سی ہے جس کی خوشبو تو اچھی ہوتی ہے لیکن مزا کڑوا ہوتا ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن بھی نہیں پڑھتا اندرائن کے پھل کی سی ہے جس کا مزہ بھی کڑوا ہوتا ہے (راوی کو شک ہے) کہ لفظ «مر» ہے یا «خبيث» اور اس کی بو بھی خراب ہوتی ہے۔