حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا إبراهيم بن سعد، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس رضي الله عنهما، قال:" كان النبي صلى الله عليه وسلم اجود الناس بالخير، واجود ما يكون في شهر رمضان، لان جبريل كان يلقاه في كل ليلة في شهر رمضان حتى ينسلخ، يعرض عليه رسول الله صلى الله عليه وسلم القرآن، فإذا لقيه جبريل كان اجود بالخير من الريح المرسلة".
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے ان سے عبداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خیر خیرات کرنے میں سب سے زیادہ سخی تھے اور رمضان میں آپ کی سخاوت کی تو کوئی حد ہی نہیں تھی کیونکہ رمضان کے مہینوں میں جبرائیل علیہ السلام آپ سے آ کر ہر رات ملتے تھے یہاں تک کہ رمضان کا مہینہ ختم ہو جاتا وہ ان راتوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قرآن مجید کا دورہ کیا کرتے تھے۔ جب جبرائیل علیہ السلام آپ سے ملتے تو اس زمانہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تیز ہوا سے بھی بڑھ کر سخی ہو جاتے تھے۔