حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال الزهري: حدثناه، قال: حدثني ابو إدريس، سمع عبادة بن الصامت رضي الله عنه، قال: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال:" اتبايعوني على ان لا تشركوا بالله شيئا، ولا تزنوا، ولا تسرقوا، وقرا آية النساء واكثر لفظ سفيان قرا الآية، فمن وفى منكم فاجره على الله، ومن اصاب من ذلك شيئا فعوقب فهو كفارة له، ومن اصاب منها شيئا من ذلك، فستره الله، فهو إلى الله إن شاء عذبه، وإن شاء غفر له". تابعه عبد الرزاق، عن معمر، في الآية.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے زہری نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابوادریس نے بیان کیا اور انہوں نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم مجھ سے اس بات پر بیعت کرو گے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ گے اور نہ زنا کرو گے اور نہ چوری کرو گے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۃ النساء کی آیتیں پڑھیں۔ سفیان نے اس حدیث میں اکثر یوں کہا کہ آپ نے یہ آیت پڑھی۔ پھر تم میں سے جو شخص اس شرط کو پورا کرے گا تو اس کا اجر اللہ پر ہے اور جو کوئی ان میں سے کسی شرط کی خلاف ورزی کر بیٹھا اور اس پر اسے سزا بھی مل گئی تو سزا اس کے لیے کفارہ بن جائے گی لیکن کسی نے اپنے کسی عہد کے خلاف کیا اور اللہ نے اسے چھپا لیا تو وہ اللہ کے حوالے ہے اللہ چاہے تو اسے اس پر عذاب دے اور اگر چاہے معاف کر دے، سفیان کے ساتھ اس حدیث کو عبدالرزاق نے بھی معمر سے روایت کیا انہوں نے زہری سے اور یوں ہی کہا آیت پڑھی۔