حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا ازهر بن سعد، اخبرنا ابن عون، قال: انباني موسى بن انس، عن انس بن مالك رضي الله عنه، ان النبي صلى الله عليه وسلم افتقد ثابت بن قيس، فقال رجل: يا رسول الله، انا اعلم لك علمه، فاتاه، فوجده جالسا في بيته منكسا راسه، فقال له: ما شانك؟ فقال: شر كان يرفع صوته فوق صوت النبي صلى الله عليه وسلم فقد حبط عمله وهو من اهل النار، فاتى الرجل النبي صلى الله عليه وسلم، فاخبره انه، قال: كذا وكذا، فقال موسى: فرجع إليه المرة الآخرة ببشارة عظيمة، فقال:" اذهب إليه، فقل له إنك لست من اهل النار، ولكنك من اهل الجنة".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن عون نے خبر دی، کہا کہ مجھے موسیٰ بن انس نے خبر دی، اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔ ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ کے لیے ان کی خبر لاتا ہوں۔ پھر وہ ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے دیکھا کہ وہ گھر میں سر جھکائے بیٹھے ہیں پوچھا کیا حال ہے؟ کہا کہ برا حال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز کے مقابلہ میں بلند آواز سے بولا کرتا تھا اب سارے نیک عمل اکارت ہوئے اور اہل دوزخ میں قرار دے دیا گیا ہوں۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے جو کچھ کہا تھا اس کی اطلاع آپ کو دی۔ موسیٰ بن انس نے بیان کیا کہ وہ شخص اب دوبارہ ان کے لیے ایک عظیم بشارت لے کر ان کے پاس آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ان کے پاس جاؤ اور کہو کہ تم اہل دوزخ میں سے نہیں ہو بلکہ تم اہل جنت میں سے ہو۔