حدثنا الحسن بن عبد العزيز، حدثنا عبد الله بن يحيى، اخبرنا حيوة، عن ابي الاسود، سمع عروة، عن عائشة رضي الله عنها، ان نبي الله صلى الله عليه وسلم كان يقوم من الليل حتى تتفطر قدماه، فقالت عائشة: لم تصنع هذا يا رسول الله، وقد غفر الله لك ما تقدم من ذنبك وما تاخر، قال:" افلا احب ان اكون عبدا شكورا"، فلما كثر لحمه صلى جالسا، فإذا اراد ان يركع قام فقرا، ثم ركع.
ہم سے حسن بن عبدالعزیز نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہیں حیوہ نے خبر دی، انہیں ابوالاسود نے، انہوں نے عروہ سے سنا اور انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں اتنا طویل قیام کرتے کہ آپ کے قدم پھٹ جاتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک مرتبہ عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ اتنی زیادہ مشقت کیوں اٹھاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو آپ کی اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا پھر میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہ کروں۔ عمر کے آخری حصہ میں (جب طویل قیام دشوار ہو گیا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ کر رات کی نماز پڑھتے اور جب رکوع کا وقت آتا تو کھڑے ہو جاتے (اور تقریباً تیس یا چالیس آیتیں اور پڑھتے) پھر رکوع کرتے۔