قالت: وكان إذا راى غيما او ريحا عرف في وجهه، قالت: يا رسول الله، إن الناس إذا راوا الغيم، فرحوا رجاء ان يكون فيه المطر واراك إذا رايته عرف في وجهك الكراهية، فقال:" يا عائشة، ما يؤمني ان يكون فيه عذاب عذب قوم بالريح وقد راى قوم العذاب، فقالوا: هذا عارض ممطرنا".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! جب لوگ بادل دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں کہ اس سے بارش برسے گی لیکن اس کے برخلاف آپ کو میں دیکھتی ہوں کہ آپ بادل دیکھتے ہیں تو ناگواری کا اثر آپ کے چہرہ پر نمایاں ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! کیا ضمانت ہے کہ اس میں عذاب نہ ہو۔ ایک قوم (عاد) پر ہوا کا عذاب آیا تھا۔ انہوں نے جب عذاب دیکھا تو بولے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔