حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد، عن ايوب، عن ابي قلابة، قال انس بن مالك:" انا اعلم الناس بهذه الآية آية الحجاب لما اهديت زينب بنت جحش رضي الله عنها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم كانت معه في البيت صنع طعاما، ودعا القوم فقعدوا يتحدثون، فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يخرج، ثم يرجع، وهم قعود يتحدثون، فانزل الله تعالى: يايها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا ان يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه إلى قوله من وراء حجاب سورة الاحزاب آية 53، فضرب الحجاب، وقام القوم".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے ابوقلابہ نے کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس آیت یعنی آیت پردہ (کے شان نزول) کے متعلق میں سب سے زیادہ جانتا ہوں، جب زینب رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کیا اور وہ آپ کے ساتھ آپ کے گھر ہی میں تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا تیار کروایا اور قوم کو بلایا (کھانے سے فارغ ہونے کے بعد) لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر جاتے اور پھر اندر آتے (تاکہ لوگ اٹھ جائیں) لیکن لوگ بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «يا أيها الذين آمنوا لا تدخلوا بيوت النبي إلا أن يؤذن لكم إلى طعام غير ناظرين إناه» کہ ”اے ایمان والو! نبی کے گھروں میں مت جایا کرو۔ سوائے اس وقت کے جب تمہیں (کھانے کے لیے) آنے کی اجازت دی جائے۔ ایسے طور پر کہ اس کی تیاری کے منتظر نہ رہو۔“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «من وراء حجاب» تک اس کے بعد پردہ ڈال دیا گیا اور لوگ کھڑے ہو گئے۔