كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان، حدثنا منصور، والاعمش، عن ابي الضحى، عن مسروق، قال: بينما رجل يحدث في كندة، فقال: يجيء دخان يوم القيامة، فياخذ باسماع المنافقين، وابصارهم ياخذ المؤمن كهيئة الزكام، ففزعنا، فاتيت ابن مسعود، وكان متكئا، فغضب فجلس، فقال: من علم فليقل، ومن لم يعلم فليقل الله اعلم، فإن من العلم ان، يقول: لما لا يعلم لا اعلم، فإن الله، قال لنبيه صلى الله عليه وسلم" قل ما اسالكم عليه من اجر وما انا من المتكلفين سورة ص آية 86، وإن قريشا ابطئوا عن الإسلام، فدعا عليهم النبي صلى الله عليه وسلم فقال:" اللهم اعني عليهم بسبع كسبع يوسف"، فاخذتهم سنة حتى هلكوا فيها واكلوا الميتة والعظام، ويرى الرجل ما بين السماء والارض كهيئة الدخان، فجاءه ابو سفيان، فقال: يا محمد جئت تامرنا بصلة الرحم، وإن قومك قد هلكوا، فادع الله، فقرا: فارتقب يوم تاتي السماء بدخان مبين إلى قوله عائدون سورة الدخان آية 10 - 15، افيكشف عنهم عذاب الآخرة إذا جاء ثم عادوا إلى كفرهم، فذلك قوله تعالى: يوم نبطش البطشة الكبرى سورة الدخان آية 16 يوم بدر ولزاما يوم بدر، الم غلبت الروم إلى سيغلبون سورة الروم آية 1 - 3 والروم قد مضى.

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، کہا ہم سے منصور اور اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ ایک شخص نے قبیلہ کندہ میں وعظ بیان کرتے ہوئے کہا کہ قیامت کے دن ایک دھواں اٹھے گا جس سے منافقوں کے آنکھ کان بالکل بیکار ہو جائیں گے لیکن مومن پر اس کا اثر صرف زکام جیسا ہو گا۔ ہم اس کی بات سے بہت گھبرا گئے۔ پھر میں ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا (اور انہیں ان صاحب کی یہ بات سنائی) وہ اس وقت ٹیک لگائے بیٹھے تھے، اسے سن کر بہت غصہ ہوئے اور سیدھے بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ اگر کسی کو کسی بات کا واقعی علم ہے تو پھر اسے بیان کرنا چاہئے لیکن اگر علم نہیں ہے تو کہہ دینا چاہئے کہ اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔ یہ بھی علم ہی ہے کہ آدمی اپنی لاعلمی کا اقرار کر لے اور صاف کہہ دے کہ میں نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا تھا «قل ما أسألكم عليه من أجر وما أنا من المتكلفين‏» آپ کہہ دیجئیے کہ میں اپنی تبلیغ و دعوت پر تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا اور نہ میں بناوٹ کرتا ہوں۔ اصل میں واقعہ یہ ہے کہ قریش کسی طرح اسلام نہیں لاتے تھے۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حق میں بددعا کی کہ اے اللہ! ان پر یوسف علیہ السلام کے زمانے جیسا قحط بھیج کر میری مدد کر پھر ایسا قحط پڑا کہ لوگ تباہ ہو گئے اور مردار اور ہڈیاں کھانے لگے کوئی اگر فضا میں دیکھتا (تو فاقہ کی وجہ سے) اسے دھویں جیسا نظر آتا۔ پھر ابوسفیان آئے اور کہا کہ اے محمد! آپ ہمیں صلہ رحمی کا حکم دیتے ہیں لیکن آپ کی قوم تباہ ہو رہی ہے، اللہ سے دعا کیجئے (کہ ان کی یہ مصیبت دور ہو)۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «فارتقب يوم تأتي السماء بدخان مبين‏» سے «عائدون‏» تک۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ قحط کا یہ عذاب تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کے نتیجہ میں ختم ہو گیا تھا لیکن کیا آخرت کا عذاب بھی ان سے ٹل جائے گا؟ چنانچہ قحط ختم ہونے کے بعد پھر وہ کفر سے باز نہ آئے، اس کی طرف اشارہ «يوم نبطش البطشة الكبرى‏» میں ہے، یہ بطش کفار پر غزوہ بدر کے موقع پر نازل ہوئی تھی (کہ ان کے بڑے بڑے سردار قتل کر دیئے گئے) اور «لزاما» (قید) سے اشارہ بھی معرکہ بدر ہی کی طرف ہے «الم * غلبت الروم‏» سے «سيغلبون‏» تک کا واقعہ گزر چکا ہے کہ (کہ روم والوں نے فارس والوں پر فتح پالی تھی)۔

صحيح البخاري # 4774
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp