حدثنا مقدم بن محمد بن يحيى، حدثنا عمي القاسم بن يحيى، عن عبيد الله، وقد سمع منه، عن نافع، عن ابن عمر رضي الله عنهما: ان رجلا رمى امراته، فانتفى من ولدها في زمان رسول الله صلى الله عليه وسلم، فامر بهما رسول الله صلى الله عليه وسلم، فتلاعنا كما قال الله، ثم قضى بالولد للمراة، وفرق بين المتلاعنين".
ہم سے مقدم بن محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے چچا قاسم بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ نے، قاسم نے عبیداللہ سے سنا تھا اور عبیداللہ نے نافع سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ ایک صاحب نے اپنی بیوی پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک غیر مرد کے ساتھ تہمت لگائی اور کہا کہ عورت کا حمل میرا نہیں ہے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے دونوں میاں بیوی نے اللہ کے فرمان کے مطابق لعان کیا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ عورت ہی کا ہو گا اور لعان کرنے والے دونوں میاں بیوی میں جدائی کروا دی۔