كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ کتاب: قرآن پاک کی تفسیر کے بیان میں

حدثنا حجاج بن منهال، حدثنا معتمر بن سليمان، قال: سمعت ابي، قال: حدثنا ابو مجلز، عن قيس بن عباد، عن علي بن ابي طالب رضي الله عنه، قال:" انا اول من يجثو بين يدي الرحمن للخصومة يوم القيامة، قال قيس: وفيهم نزلت: هذان خصمان اختصموا في ربهم سورة الحج آية 19، قال: هم الذين بارزوا يوم بدر علي، وحمزة، وعبيدة، وشيبة بن ربيعة، وعتبة بن ربيعة، والوليد بن عتبة".

ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے والد سلیمان سے سنا، انہوں نے ابومجلز سے سن کر کہا کہ یہ خود ان (ابومجلز) کا قول ہے، ان سے قیس بن عباد نے اور ان سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں پہلا شخص ہوں گا۔ جو رحمن کے حضور میں قیامت کے دن اپنا دعویٰ پیش کرنے کے لیے چہار زانو بیٹھوں گا۔ قیس نے کہا کہ آپ ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی «هذان خصمان اختصموا في ربهم‏» کہ یہ دو فریق ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کے بارے میں جھگڑا کیا بیان کیا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے بدر کی لڑائی میں دعوت مقابلہ دی تھی۔ یعنی (مسلمانوں کی طرف سے) علی، حمزہ اور عبیدہ رضی اللہ عنہم نے اور (کفار کی طرف سے) شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ نے۔

صحيح البخاري # 4744
**يُرجى من القرّاء الإشارة إلى أي خطأ قد يجدونه، حتى يمكن إجراء التصحيحات اللازمة.**
قارئین سے گزارش ہے کہ اگر کسی مقام پر کوئی غلطی نظر آئے تو ہماری اصلاح ضرور فرمائیں۔
Readers are requested to point out any mistake they may find so that corrections can be made.

Whatsapp